جمعہ 14 اگست 2026 - 18:35
ماہِ ربیعُ الاوّل؛ سیرتِ رسول کے مطابق زندگی گزارنے کا اہم موقع: نائب امام جمعہ سکردو

حوزہ/ نائب امام جمعہ سکردو علامہ شیخ حسن سروری نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں ماہِ ربیعُ الاوّل کی آمد کی تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ ربیعُ الاوّل صرف خوشی منانے کا موقع نہیں، بلکہ سیرتِ رسول کے مطابق زندگی گزارنے کا اہم موقع ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب امامِ جمعہ حجت الاسلام علامہ شیخ حسن سروری نے ماہِ محرم الحرام اور ماہِ صفر المظفر کے ایام پُرامن گزرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ماہِ صفر کے آخری ایام میں 28 صفر المظفر کی مناسبت سے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فرزندِ رسول حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام رضا علیہ السّلام کی شہادت پر امامِ زمانہؑ، مراجعِ عظام اور تمام اہلِ ایمان و عالمِ اسلام کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کی۔

علامہ حسن سروری نے ماہِ ربیع الاول کی آمد کو امتِ محمدیہ کے لیے شکر، تجدیدِ عہد اور اپنی دینی ذمہ داریوں کے احساس کا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں شامل ہونا محض ایک نسبت نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ ہمیں خود بھی دین پر عمل کرنا چاہیے اور اپنے کردار و گفتار کے ذریعے دوسروں کو بھی نیکی، تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کی طرف دعوت دینی چاہیے۔

انہوں نے حسنِ ادب اور حسنِ اخلاق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی شخصیت کا حسن صرف عبادات سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، گفتگو، معاملات اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی حسنِ اخلاق، حلم، عفو و رحمت کا بہترین نمونہ تھی۔ آپؐ ضرورت مندوں کی مدد فرماتے، سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے اور لوگوں کی اصلاح تحقیر و تذلیل کے بجائے محبت، حکمت اور حسنِ سلوک سے فرماتے تھے۔ قرآنِ کریم نے اسی عظیم کردار کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ.’’اور بے شک آپؐ عظیم اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سبق لینے کی ضرورت ہے کہ اپنی گفتگو، گھریلو زندگی، معاشرتی تعلقات اور اختلافات میں اخلاقِ نبویؐ کو اختیار کریں۔ حقیقی معنوں میں امتِ محمدیہ کا فرد وہی ہے جو اپنے کردار سے رسولِ اکرمؐ کی تعلیمات کی عکاسی کرے۔

انسان کی تخلیق کے مقصد کی طرف متوجہ کرتے ہوئے علامہ حسن سروری نے کہا کہ قرآنِ کریم واضح طور پر فرماتا ہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ.’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘ (الذاریات: 56)

انہوں نے دنیا اور آخرت کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا عارضی اور آخرت دائمی ہے، اس لیے انسان کو دُنیوی ذمہ داریوں سے غافل ہوئے بغیر آخرت کی تیاری بھی جاری رکھنی چاہیے۔ معروف حکمت کے مطابق انسان کو دنیا کے لیے ایسا عمل کرنا چاہیے گویا اسے طویل زندگی ملنی ہے، جبکہ آخرت کے لیے اس طرح تیار رہنا چاہیے گویا کل ہی رخصت ہونا ہے۔ زندگی دراصل ایک سفر ہے اور عقلمند وہ ہے جو اس سفر کے لیے زادِ راہ تیار کرے اور موت کو فراموش نہ کرے۔

علامہ حسن سروری نے امام علی رضاؑ کی ایک اہم روایت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض امور کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط قرار دیا ہے: نماز کے ساتھ زکوٰۃ، اپنے شکر کے ساتھ والدین کا شکر اور تقویٰ کے ساتھ صلۂ رحمی۔ جو شخص والدین کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا حقیقی شکر گزار نہیں، اور جو صلۂ رحمی نہیں کرتا وہ تقویٰ کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ اس تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ دین صرف انفرادی عبادات کا نام نہیں، بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی بھی دین کا بنیادی حصہ ہے۔ نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے ساتھ والدین کا احترام، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی، حسنِ اخلاق اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ایک حقیقی مسلمان کی پہچان ہے۔

آخر میں علامہ حسن سروری نے زور دیا کہ ماہِ ربیع الاول میں ہمیں صرف خوشی اور مسرت کا اظہار ہی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق ڈھالنے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایمان، عبادت، حسنِ اخلاق، والدین کی خدمت، صلۂ رحمی اور حقوق العباد کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنالیں تو یہی رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حقیقی محبت اور امتِ محمدیہ سے وابستگی کا بہترین ثبوت ہوگا۔

یومِ آزادیِ پاکستان کے حوالے سے علامہ شیخ حسن سروری نے کہا کہ 14 اگست ہمارے لیے محض خوشی منانے اور جشن منانے کا دن نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتِ آزادی پر شکر ادا کرنے، قیامِ پاکستان کی قربانیوں کو یاد کرنے اور اپنی قومی و اخلاقی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کا دن بھی ہے۔ ہمیں آزادی کی خوشی ضرور منانی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہ وطن کن بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا اور آج ہم اس کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے پاکستان کے لیے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے جو اصول دیے تھے، وہ صرف ریاستی نظام کے لیے نہیں بلکہ ہماری انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر گھر میں ایمان اور اخلاق نہ ہوں تو حقیقی سکون پیدا نہیں ہوسکتا، اتحاد نہ ہو تو افراد ایک دوسرے کا سہارا نہیں بن سکتے اور نظم و ضبط نہ ہو تو کوئی خاندان، معاشرہ یا قوم ترقی نہیں کرسکتی۔

علامہ حسن سروری نے زور دیا کہ ایمان محض زبان سے اقرار کا نام نہیں، بلکہ اس کا حقیقی تقاضا کردار اور عمل میں ظاہر ہونا ہے۔ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے تو کردار مضبوط ہوتا ہے، اور مضبوط کردار ہی مضبوط فرد، مضبوط خاندان، مضبوط معاشرہ اور مضبوط ملک تشکیل دیتا ہے۔ لہٰذا یومِ آزادی پر ہمیں صرف چراغاں، پرچم کشائی اور جشن تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ایمان کو مضبوط، اتحاد کو مستحکم، نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ اور پاکستان کی سلامتی، وحدت، ترقی و خوشحالی کو اپنی ذمہ داری بنانے کا عہد کرنا چاہیے۔ یہی اس عظیم نعمتِ آزادی کا حقیقی شکر اور وطن سے وفاداری کا عملی تقاضا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha